جیسا کہ بیان کیا گیا کہ علاج معالجہ کی دنیا میں اسلامی طب ایک ایسی سائنس ہے۔ جس نے موجودہ دور کی کامیاب میڈیکل سائنس کی بنیاد رکھی ، آخر کیا وجہ کہ آج یہ طب ہماری زندگیوں سے دور ہوتی جارہی ہے۔ دن بدن مغرب کی اندھا دھند تقلید نے ہمیں جہاں خالص غذاؤں سے دور کر کے فاسٹ فوڈ کلچر کا عادی بنادیا ہے۔

وہاں ہمارے علاج معالجہ پر بھی فرنگی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ ہم معمولی سے معمولی مرض کیلئے بھی اپنے آباؤ اجداد کے ورثہ سے رجوع کرنے کی بجائے کیمیکل زدہسٹیرائیڈ زوالی انگریزی دوائی کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ نت نئی بیماریوں کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ کیا آج سے پچاس سال پہلے کسی نے کبھی کینسر کا نام سنا تھا ؟ کیا اتنے لوگ ہیپا ٹائٹس والے یرقان میں مبتلا تھے؟ کیا تھیلو سیمیا جیسا خطرناک مرض اس قدر عام تھا ؟ یقینا نہیں۔ اگر اب بھی ان موذی امراض سے بچنا ہے۔تو ہمیں اپنے اصل ( یعنی طب ) کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ اور یقینا ایسا ہو رہا ہے۔
