قدرت کاملہ نے اپنی نوازشات ، عنایات اور فیوض و برکات کی انتہا کرتے ہوئے انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب جلیلہ پر فائز کیا۔ اور اسے زندگی کی ہر وہ نعمت عطاء فرمائی جو اسے اپنے اعلیٰ و ارفع مقام کی بقاء کیلئے ضروری تھی۔

حضرت انسان کیلئے جہاں کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے اور گھومنے پھرنے کیلئے قدم قدم پر نعمتیں اور سہولتیں دستیاب ہیں۔ وہاں سب سے بڑی نعمت بدن انسانی کی مکمل صحت بھی ہے۔ اگر صحت کا توازن بگڑ جائے تو دنیا کی کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا۔ نہ باغ بہاری اچھی لگتی ہے۔ اور نہ گل ولالہ کی شوخیاں دل کو بھاتی ہیں۔ بارش کا رومان پرور موسم بھی سوہان روح لگنے لگتا ہے۔ اور دسمبر کی معتدل چپکدار دھوپ بھی دل کو تمازت نہیں دے پاتی۔ دن کی گہما گہمی ، شور لگنے لگتی ہے۔ اور رات کا سکون کسی قبرستان کا منظر دکھائی دینے لگتا ہے۔ جان سے عزیز وہ رشتہ دار جن سے ملنے کی امنگ ہر آن رہتی ہے۔ ایسی صورت میں ان کی موجودگی بھی گراں گزرنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس صحت و تندرستی کے زیور سے آراستہ انسان مشکل سے مشکل وقت کو بھی خندہ پیشانی سے گزارنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ قدرت کی حسین صناعی کو دیکھ کر اس کی خوبصورتی کے گیت گاتا ہے۔ معمولی بات میں بھی خوشی تلاش کر لیتا ہے۔ چھوٹی موٹی فکر و پریشانی کو وہ یوں جھٹک دیتا ہے۔ جیسے سر پر پریشانی نہیں بلکہ کوئی ناپسندیدہ کیٹرا مکوڑا بیٹھ گیا ہو۔ دوستوں ، عزیزوں اور دیگر پیاروں کی محفل سے لطف کشید کرتا ہے۔ اور صحت کی حالت میں خشک روٹی کو بھی تر نوالہ سمجھ کر نگل جاتا ہے۔ معاشرتی تنظیم کا ایک آلہ کار بن کر وہ نہ صرف اپنے بلکہ اپنے معاشرہ کے دیگر افراد کے لئے بھی رزق روٹی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ غذا و خوراک بود و باش ، رہن سہن ، رسوم و رواج اور خودی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ صحت و تندرستی کے بارے میں آج سے ڈیڑھ پونے دو سو سال پہلے لکھا گیا یہ مصرعہ آج بھی اسی طرح حقیقت پر مبنی ہے۔ کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ کیونکہ یہ وہ نعمت ہے۔ جس کے ہوتے ہوئے انسان ہر نعمت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ صحت نہ ہو تو کوئی نعمت بھی مزہ نہیں دیتی۔
